مہر خبررساں ایجنسی نے عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم کلب برائے اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی انتظامیہ کی طرف سے انتظامی حراست کی ظالمانہ پالیسی کے خلاف 4 فلسطینیوں نے بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق 43 سالہ حسن شوکہ کا تعلق غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم سے ہے۔ وہ 44 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 3 دیگر فلسطینی بیت لحم ہی کے اسلام جواریش اور محمود عیاد اور الخلیل کے شمالی قصبے بیت امر کے عیسی عوض نے بھی انتظامی حراست کے تسلسل کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔اسیر حسن شوکہ کی والدہ نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو رہائی کے روز دوبارہ گرفتار کرکے انتظامی قید میں ڈال دیا گیا جس کے خلاف اس نے بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حسن شوکہ کو نو ماہ کی انتظامی قید کے بعد تین جون کو رہا کیا گیا مگر فورا ہی اسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔اسیر شوکہ کی ڈیڑھ ماہ سے جاری بھوک ہڑتال کے باعث اس کی حالت کافی تشویش ناک ہے۔
اسرائیلی جیل میں ظالمانہ پالیسی کے خلاف 4 فلسطینیوں کی بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال جاری
انسانی حقوق کی تنظیم کلب برائے اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی انتظامیہ کی طرف سے انتظامی حراست کی ظالمانہ پالیسی کے خلاف 4 فلسطینیوں نے بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔
News ID 1882332
آپ کا تبصرہ